چاکرانی بزدار قوم کی تاریخ

History of Chackrani Buzdar

قدیم دور

[1] چاکرانی رند بلوچ میرجلال کے پڑپوتے میر چاکر کے قوم سے ہیں۔ رند کا سیوی(سبی بلوچستان) صدر مقام ہے، سولہویں صدی میں رند اور لاشار قوم کا جنگ 40 سال تک جاری رہا، کشت خونی کے نتیجہ میں لاشاری قوم نے سندھ کا رخ کیا جبکہ رند کے کچھ گرہوں نے سبی سے شمال مشرق پنجاب کی طرف رخ کیا اس زمانے میں لوگ خانہ بدوشی جیسے زندگی گزارتے تھے جہاں موضوع جگر پاتے وہیں ڈیرے ڈالتے، تمن بزدار کا تقریبا سارا قبیلہ کوہ سلیمان میں آ کر آباد ہوا تمام بزدار کے مشکور قبائل چاکرانی، جلالانی ۔۔۔۔۔ اور دیگر متفرق برادریوں پر مشتمل ہے انگریز مورخ اس وقت برصغیر پر ملکہ برطانیہ کی راج رانی تھی) نے چاکرانی کو سرکش لکھا حالانکہ بہت ہی پرامن تہذیب یافتہ قوموں میں شمار ہوتا ہے اسحاق خان اور سونا خان چاکرانی تمن بزدار میں مشہور ہستیاں گزرے ہیں اسحاق خان روم کے وفات کے بعد 1996 میں سے محمد اکبر خان (صدارتی ایوارڈ یافتہ) چاکرانی قبیلے کاہیڈ مقدم کررہا ہے باقاعدہ پولیٹیکل اسسٹنٹ ڈیرہ غازی خان سے نوٹیفائیڈ شدہ ہے سیاسی رہنما محمد حیات خان کا تعلق بھی اسی خاندان سے ہے تاج محمد خان بزدار بھی اس خاندان سے ہیں، سینیئر ہیڈ ماسٹر منیر احمد خان ( ثانی سونا) بھی اس خاندان چشم چراغ ہو گزرے ہیں، ماسٹر کریم بخش چاکرانی مرحوم مشہور معروف سماجی رہنما کا تعلق بھی اسی خاندان سے ہے

تعارف

چاکرانی قوم ہر جگہ آباد ہیں،لیکن پنجاب کے ضلع تونسہ، کوہ سلیمان میں بڑی تعداد میں آباد ہیں۔

چاکرانی زیلی شاخیں

چاکرانی ایک بزدار قبیلہ ہے۔اور اس قبیلے میں زیلی شاخیں ہیں آدمانی،بالچھانی ،صدانی ، حمیدانی ،پہلوانی،سالرانی اور الذانی ہیں۔

شجرہ نسب چاکرانی

محمد حاجی اکبر بن عمر خان بن نور محمد بن اسحاق بن دوست محمد بن یار محمد بن آدم بن سومرا بن چاکر بن ٹھارو بن ممدن بن سالار بن پہلون بن پیردین بن سبزو بن عالی بن بجار بن اسحاق بن شہک بن شہداد بن میر عبداللہ بن رندو خان بن میر جلال بن محمد بن ہارون بن محمد بن عبانی بن ربدالرحیم عمارہ بن حضرت امیر حمزہ (رضہ)حمزہ بن عبد المطلب

موجودہ سربراہ

چاکرانی قوم کا موجودہ سربراہ وڈیرہ اکبر خان چاکرانی بزدار ہیں

وڈیرہ اکبر خان چاکرانی بزدار

 وڈیرہ اکبر خان چاکرانی بزدار